منگلورو:3/اگست (ایس اؤنیوز)ریاستی کانگریس حکومت کے وزیر ڈی کے شیوکمار کے ٹھکانوں پر آئی ٹی کے ذریعے چھاپہ ماری کرتےہوئے مرکزی حکومت بدلے کی سیاست کرنے پر ریاستی کابینہ کے وزیر برائے غذائی اور شہری سپلائی یوٹی قادر نے سخت اعتراض جتایا ہے۔
وہ یہاں جمعرات کو پریس کانفرنس میں بات کررہے تھے۔ یوٹی قادر نے کہاکہ مرکزی حکومت اپنے ماتحت دستوری اداروں کا غلط استعمال کرتے ہوئے کانگریسی اقتدار والی ریاستوں میں چھاپہ ماری کرتے ہوئے بدلے کی سیاست کرنے کا الزام لگایا۔ موصوف وزیر نے بتایا کہ گذشتہ 4سالوں سے ریاستی حکومت پر کسی طرح کا ایک معمولی داغ بھی نہیں لگاہے ایماندار اور شفاف انتظا م دینے والی ریاستی حکومت کو بدنام کرنے اور ہنگامہ خیزی کی صورت حال پید اکرنے کے لئے مرکزی حکومت بلیک میل کا طریقہ اپنانے کی بات کہی۔
وزیر یوٹی قادر نے مرکزی حکومت کے رشوت خوری اور بدعنوانی کے خلاف اقدام پر سوال کھڑا کرتے ہوئے کہاکہ اگر مرکزی حکومت کو رشوت کے خلاف جدوجہد کرنےکی اتنی فکر ہے تو ایک مضبوط ’’لوک پال ‘‘بل جاری کرے اور تعجب کی بات یہ ہے کہ گجرات میں لوک آیوکتہ ہے ہی نہیں۔ جس سے ثابت ہوتاہے کہ مرکزی حکومت رشوت کے معاملے میں کتنی ایماندار ہے۔ انہوں نےکہاکہ گجرات کے کانگریسی ارکان اسمبلی کو کوئی تحفظ حاصل نہیں ہے، گجرات کے کانگریسی ارکان اسمبلی کو لالچ دی جارہی ہے ، ان پر زور زبردستی کی جارہی ہے، اسی لئے وہ تمام لوگ حفاظت کے لئے کرناٹکا آئے ہیں، انہیں تحفظ فراہم کرنا ریاستی حکومت کا فرض ہونے کی بات کہی۔
راشن کارڈ مسئلے پر انہوں نے کہاکہ راشن کارڈ کے لئے جنہوں نے آن لائن درخواستیں دی ہیں ان کو دیہی سطح پر 10اگست اور شہری سطح پر 15اگست تک حل کرلینے افسران کو حکم دیا گیا ہے۔ ریونیو منسٹر کاکوڈ تمپا اور میں نے ریاست کے تمام ڈپٹی کمشنروں کے ساتھ وڈیو کانفرنس کرتے ہوئے مکمل جانکاری حاصل کی تھی ، اسی دوران انہیں راشن کارڈ کی عرضیوں کو حل کرنے کا حکم بھی دئیے جانے کی بات کہی۔ ابھی تک 1لاکھ عرضیوں کی جانچ کی جاچکی ہے۔ وڈیو کانفرنس کی بات سنتے ہی صرف بدھ کو ہی 20ہزار سے زائد درخواستوں کو حل کرلیا گیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ راشن کارڈ کے ذریعے ایک لیٹر مٹی کا تیل لینے والے متعلقہ افراد اگر مٹی کا تیل ضرورت نہیں ہونے کی درخواست دیں تو انہیں چارجنگ والے 2ایل ای ڈی بلب مفت میں تقسیم کئے جانے کی بات کہی۔
موڈبیدرے آلواس تعلیمی ادارے کی طالبہ کاویاپجاری کی ہلاکت پر پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہاکہ پولس محکمہ جانچ کررہاہے، کاویا کی موت پر اس کے والدین نے شبہات ظاہر کئے ہیں۔ اس سلسلے میں بھی جانچ کرنےکی بات کہی ۔ پریس کانفرنس میں ذمہ داران اور لیڈران موجود تھے۔